آرٹیکل

شوہر کے ف وت ہونے کی صورت میں حاملہ عورت کتنی عدت گزارے گی؟

Written by Admin

عدت کا مقصد صرف حمل ہونے، نہ ہونے کی تصدیق نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو حیض والی عورتوں میں صرف ایک حیض عدت ہوتی، مکمل تین حیض نہ ہوتی؛ کیوں کہ ایک بار حیض آنے سے حمل نہ ہونا متعین ہوجاتا ہے، نیز قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث میں یہ بات نہیں آئی کہ عدت محض حمل کی تصدیق کے لیے ہوتی ہے، یہ محض من گھڑت بات معلوم ہوتی ہے؛ بلکہ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ طلاق، خلع یا فسخ نکاح کی صورت میں ان عورتوں کی عدت جنھیں حیض آتا ہو، مکمل تین حیض ہوتی ہے۔

(جیسا کہ قرآن پاک، سورہ بقرہ، آیت: ۲۲۸ میں ہے)، جن میں سے پہلا حیض براء ت رحم جاننے کے لیے، دوسرا حرمت نکاح کی وجہ سے اور تیسرا آزادی کی فضیلت کی وجہ سےاور اگر کسی عورت کو حیض نہ آتا ہو یا وہ ابھی حیض کی عمر کو نہیں پہنچی تو مہینہ اس کے حق میں حیض کے قائم مقام ہوگا اور اس کی عدت تین مہینہ ہوگی جیسا کہ سورہ طلاق (آیت: ۴) میں ہے۔ الحاصل حکم خداوندی کی وجہ سے ہر وہ عورت جسے دخول یا خلوت کے بعد طلاق ہوگئی ہو، یا اس کا خلع ہوا ہو یا شرعی طریقہ پر نکاح فسخ کیا گیا ہو یا دخول اور خلوت کی قید کے بغیر جس عورت کا شوہر انتقال کرگیا ہو، اس پر عدت لازم وضروری ہے، البتہ حمل کی صورت میں عدت علی الاطلاق وضع حمل ہوگی۔

اور اگر حمل نہ ہو توشوہر کی وفات کی صورت میں چار مہینہ دس دن، اور طلاق وغیرہ کی صورت میں اگر حیض آتا ہو تو تین حیض ورنہ تین مہینہ ہوگی۔ (۲): عدت مذہب اسلام میں لازم وضروری ہے اور بعض احکام میں عدت بحکم نکاح ہوتی ہے؛ اسی لیے معتدہ کا نکاح کسی اور مرد سے جائز نہیں، اور اس کی اہمیت کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کا لازم قطعی حکم ہے، اس پر عمل کرنا لازم وضروری ہے۔ (۳): عورت کا عدت وفات یا عدت طلاق وغیرہ میں احکام عدت کی رعایت نہ کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا ناجائز وحرام ہے، ایسی عورت سخت گنہگار ہوتی ہے، اور اگر کوئی عورت حالت عدت میں نکاح کرلیتی ہے تو اس کا نکاح شرعاً ہرگز درست ومعتبر نہ ہوگا؛ بلکہ باطل وغیر معتبر ہوگا اور یہ ایسا ہی ہوگا۔

جیسے کوئی منکوحہ عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی روایت ہے کہ مسئلہ دریافت کیا گیا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے ایک عورت کا خاوند م ر جا ئے اور عورت چار ماہ گزرنے سے قبل حمل کر دے اس کی عدت کیا ہو گی ؟ ابنِ عباس ؓ نے فر ما یا اس کی عدت وہ مدت ہو گی جو زیادہ ہو گی یعنی چار ماہ دس دن اور حمل میں سے بعد میں اور آخر اور زیادہ ہو گی وہ گزارے گی ایک عورت کا خاوند م ر جا ئے اور عورت چار ماہ گزرنے سے قبل حمل کر دے ابنِ عباسؓ نے فر ما یا اس کی عدت وہ مدت ہو گی جو زیادہ ہو گی۔

About the author

Admin

Leave a Comment