آرٹیکل

میرا شوہر لالچی تھا اس کو پیسوں کی ضرورت پڑی ایک رات میرے کمرے میں دولڑ کے لے کر آیا اور

Written by Admin

میں اس محلے میں رہتی تھی جہاں پر جسم بیچ کر زندگی کی ضرورتیں پوری کی جاتی تھیں دینے والے نے مجھے ضرورت سے زیادہ ہی حسن سے نوازاد یا تھا اس لیے میرے پاس گاہک بھی زیادہ آتے اور آمدن بھی زیادہ ہوتی تھی اکثر میری ہم عمر لڑ کیاں مجھ سے حسد کرتی تھیں کیونکہ ان کو گالک کے انتظار

میں زیادہ دیر تک انتظار کر ناپڑتا تھا پھر عمیر میرے پاس آیا اور میرے دل میں محبت کا بیج بو کر چلا گیا اب وہ بار بار میرے پاس آنے لگا اور مجھے ہاتھ لگاۓ بنا پیسے دے کر چلا جاتا مجھے اس سے پیار ہونے لگ پڑا تھا اس نے مجھے عزت دی اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا خواب

دکھایا اور ایک دن میں نے یہ ناپاک زندگی چھوڑ کر اس سے نکاح کر لیا اور اس کے ساتھ رہنے لگی شروع کے دنوں میں وہ مجھے بہت پیار کر تار ہامیری ضرورتوں کا بھی خیال رکھتا تھا لیکن پھر اس کا دل مجھ سے بھر نے لگااب وہ بدل رہا تھا اکثر اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے میرے سامنے ہاتھ

پھیلانے لگامیرے پاس جو کچھ جمع تھاوہ میں اس کو دے چکی تھی ایک دن مجھ سے دوہزار مانگنے لگا لیکن میں نے انکار کر دیا مجھے کہنے گاتم نے کون سامحنت کر کے کماۓ ہیں جسم ہی تو بیجتی رہی ہو اس کی بات نے میرے دل پر چوٹ لگائی میں نے کہا کہ وہ میر اماضی تھااب میں آپ کی بیوی ہوں آپ کی

عزت ہوں وہ خاموشی سے گھر سے باہر نکل گیا شام کو گھر واپس آیا تو اس کے ساتھ دولڑ کے اور بھی تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو کہنے لگا کہ ان کے ساتھ کمرے میں جاؤ اور ان کو خوش کر کے آؤ میں نے ان سے ایڈوانس پیسے لے لیے ہیں میں بہت گھبرائی اور رونے لگ پڑی لیکن اس نے

میری پرواہ نا کی کہنے لگا اب کیوں پار سا بن رہی ہو پہلے بھی تو ایک دن میں کئی کئی مردوں سے منہ کالا کرتی تھی میں نے کہاوہ میرا ماضی نقاب میں یہ کام نہیں کروں گی اس نے زور سے میرے پیٹ پر لات ماری اور گالیاں بکنا

شروع ہو گیا میں روتی رہی لیکن انہوں نے مجھ پر ترس نا کھایا تینوں نے مل کر مجھے بے عزت کیا اور پھر وہ دونوں لڑکے واپس چلے گئے میں نے کپڑے پہنے اور چپ کر کے لیٹ گئی میں نے اپنے مقدر پر صبر کر لیا تھا مجھے معلوم تھااب مجھے وہی کچھ کرنا ہو گا جو شادی سے پہلے کرتی تھیفرق صرف اتنا تھا کہ اب میں کنجروں کے محلے سے اٹھ کر شریفوں کے محلے آگئی تھی

Sharing is caring!

About the author

Admin

Leave a Comment