}; document.write(''); درد سے تڑپتی حاملہ عورت کو 10 سیکنڈ میں آرام آجاتا ہے۔۔ بغیر درد کے ڈلیوری کیسے ممکن ہے؟ ماہرین کی رائے - URDU NEWS
آرٹیکل اہم خبریں صحت

درد سے تڑپتی حاملہ عورت کو 10 سیکنڈ میں آرام آجاتا ہے۔۔ بغیر درد کے ڈلیوری کیسے ممکن ہے؟ ماہرین کی رائے

Written by Admin

ماں بننا کسی بھی عورت کی زندگی کا سب سے خوشگوار مرحلہ ہوتا ہے لیکن بہت سی لڑکیاں اور خواتین خوفزدہ ہوتی ہیں کہ جانے انھیں کس تکلیف سے گزرنا پڑے گا۔ ایسی خواتین جو حمل سے گزر رہی ہیں انھیں یہ مضمون لازمی پڑھنا چاہئے تاکہ بغیر درد کے زچگی کے عمل سے گزرنے کے بارے میں وہ اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرسکیں۔

“اسپتال میں جس وقت حاملہ عورت زچگی کے مرحلے کے قریب ہوتی ہے اور اسے شدید درد محسوس ہوتا ہے اس وقتambulatory epidural کے ذریعے اسے صرف ١٠ سیکنڈز میں آرام آسکتا ہے۔“

یہ کہنا ہے ڈاکٹر مظہر عاصم مونگا کا جو کینیڈا سے آئے ہیں اور قطر کے شاہی خاندان کے ذاتی معالج ہیں۔ ڈاکٹر مظہر کنسلٹنٹ اینیستھیٹسٹ ہیں۔ مرہم ٹی وی پر اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مظہر کا کہنا تھا کہ جب حاملہ خواتین اسپتال میں رجسٹریشن کے لئے آتی ہیں اسی وقت ان کی ہسٹری اور ٹیسٹ وغیرہ کروانے کا عمل شروع کردیا جاتا ہے ساتھ یہ انھیں مستقبل میں پیش آنے والے مرحلوں سے بھی آگاہ کردیا جاتا ہے۔

حاملہ خاتون جب زچگی کے لئے اسپتال آتی ہیں اس وقت جب ان کا درد انتہا پر پہنچ جائے اس وقت انھیں ambulatory epidural دیا جاتا ہے جس سے سیکنڈز میں درد کا اثر زائل ہوجاتا ہے البتہ زچگی کا مرحلہ جاری رہتا ہے۔ یہ طریقہ فرانس میں کافی مقبول ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر مظہر کے مطابق اس ٹریٹمنٹ کے بعد حاملہ خاتون کو چلایا بھی جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچہ مزید نیچے آجائے اور پھر تھوڑی دیر بعد ڈلیوری کا عمل ممکمل ہوجاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس طریقہ کار سے بچے یا ماں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ ہی ماں کو درد ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی وجہ سے سی سیکشن کی ضرورت پیش آجائے اس وقت بھی حاملہ عورت کو تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔

About the author

Admin

Leave a Comment