}; document.write(''); حلالہ میں دوسرے مرد سے شادی اور قربت کیوں - URDU NEWS
آرٹیکل

حلالہ میں دوسرے مرد سے شادی اور قربت کیوں

Written by Admin

نکاح حلالہ ایک اسلامی رسم ہے اگر کوئی مرد کسی عورت کو طل ا ق دے دے لیکن پھر حالت کی وجہ سے عورت کو اس شخص سے دوبارہ شادی کر نی پڑے تو اسے حلالہ کا ضابطہ ماننا پڑتا ہے شریعت کے مطا بق اسی شخص سے پھر شادی کرنے سے پہلے عورت کو پہلے کسی دوسرے شخص سے شادی

کرنا ضروری ہے جب یہ دوسرا شو ہر اس عورت کو طل ا ق دے دیتا ہے تو پھر وہ اپنے پہلے شوہر سے شادی کر سکتی ہے یہ دوسری شادی بھلے ہی ایک دن کے لیے ہو لیکن مرد اور عورت کو طل ا ق دے پہلے جسمانی تعلق قائم کرنا ضروری ہے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطا بق حلالہ کی یہ روایت پوری دنیا میں صرف ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہی رائج ہے کیا یہ جا ننا ضروری ہے۔کہ کیا حلالہ جائز ہے یا نہیں؟ کیا اسلام ایسے نکاح کی اجازت دیتا ہے کہ جس کی بنیاد کی طل ا ق پر رکھی جا ئے یہ سب جاننے کے لیے آج ہمارے اس موضوع کے متعلق تمام باتوں کو بہت ہی غور سے سنیے گا اور ان پر عمل بھی کیجئے گا کیوں کہ یہ بہت ہی زیادہ معلوماتی باتیں ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان باتوں کو آخر تک ضرور پڑھیں۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تے ہیں پھر اگر خاوند تیسری مرتبہ طل ا ق دے تو بیوی اس پر حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ نکاح کرے کسی اور خاوند کے ساتھ پس اگر وہ دوسرا خاوند طل ا ق دے تو کوئی حرج نہیں ان دونوں پر کہ رجو ع کر لیں بشر طیکہ وہ خیال کر یں کہ

اللہ کی حدوں کے درمیان قائم رہ سکیں اس آیت کے نزول میں حضرت عائشہ ؓ روایت کر تی ہیں کہ ایک عورت کو طل ا ق ہو گئی۔او راس نے دوسرے مرد سے نکاح کر لیا اس مرد نے بھی طل ا ق دے دی اس عورت نے آپ ﷺ سے مسئلہ در یا فت فر ما یا تو آپ نے فر ما یا کہ تم اس وقت پہلے مرد کے لیے حلال نہیں جب تک کہ تو اس دوسرے مرد کی شیرینی نہ کھا لے ایک اور روایت میں اضافہ ہے کہ اس نے آپ ﷺ کے سامنے بیان کیا کہ کہ دوسرا شوہر قربت نہیں کر تا اس کے پاس سوائے کپڑے کے پھندنے کے کچھ نہیں ہے ۔ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں بھی یہی فر ما یا کہ تم اپنے شوہر کے پاس اس وقت تک نہیں جا سکتی۔جب تک کہ وہ دوسرا مرد تیری اور تو اس کی شیر ینی نہ کھا لے قرآنِ پاک کے اوپر بیان کی گئی آیت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ نے ایسی صورت میں جب زوجین تیسری ط ل ا ق کے بعد علیحدہ ہو جا ئیں یا میاں بیوی کے درمیان ط ل ا ق قائم ہو جا تی ہے تو کسی صورت واپس نہ لو ٹائی جا سکتی ہو ایسی صورت میں میاں بیوی اپنی غلطی کا احساس کر تے ہوئے ایک دوسرے کی زوجیت میں اگر واپس آنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فر ما یا ہے۔

Sharing is caring!

About the author

Admin

Leave a Comment