آرٹیکل

حضر ت علی ؓ کی کمال ذہا نت کا واقعہ ۔

Written by Admin

ویسے تو ہرصحابی سے آپﷺ کو پیار تھا ہر صحابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانثار ساتھی اور محبوب تھا لیکن بعض ایسے خوش نصیب بھی ہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاص تعلق اور محبت تھی ان میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی ذات گرامی بھی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تعلق خاطرتھا وہ بہت زیادہ تھا

آپ داماد رسولﷺ تھے اور بے شمار مواقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے منسوب ایسے کئی فرمودات روایت کئے گئے ہیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے آپﷺ کی ایک مشہور حدیث میں ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے گویا قیامت تک اور زمانوں تک یہ اصول وضع کر دیا گیا کہ جس کوخیرات علم درکار ہوگی اسے اس دروازے پر آنا ہوگا جس شخصیت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کا دروازہ قرار دے دیا تو پھر اس کی زہانت کا تو یہ عالم ہونا تھا۔کہ اس نے ممبر خطابت پر بیٹھ کے سلونی کی صدائیں بلند کرنی تھی یعنی پوچھ لو جو مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو اور میں اس کا تشفی جواب تمہیں عطا کروں بے شمار واقعات حضرت علی کی ذات گرامی سے منسوب ہیں کہ جب بظاہر پیچیدہ نظر آنے والے کسی مسئلے یا کسی

سوال کا حل آپ نے اپنی ذہانت اور کمال علم کی بدولت چند لمحوں میں پیش کردیا آج ہم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات گرامی سے منسوب ایک واقعہ آپ کے ساتھ شئیر کرنے جا رہے ہیںجن سے آپ کے علم و فضل کے مرتبے کو سمجھنے میں مدد ملے گی دوستو ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں ایک لڑکے کو زنا کے جرم میں سزا دینے کے لیے لے جایا جارہا تھا واضح رہے کہ اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے سنگساری اور غیر شادی شدہ کے لیے 80 کوڑے بطور سزا ہے وہ لڑکا اونچی آواز سے پکار رہا تھا۔کہ میں بے گناہوں مجھے سزا نہ دی جائے اسی اثناء میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو حضرت علی نے اس لڑکے کی پکار سن کر سرکاری اہلکاروں کو رکنے کا حکم فرمایا اور لڑکے سے پوچھا کیا معاملا ہے لڑکے نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سےعرض کی کہ جناب جس جرم کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے میں نے وہ ج رم نہیں کیا ہے اور اس ج رم کا مجھ پر ال زام لگانے والی میری ماں ہےحضرت علی نے یہ سن کر سرکاری اہلکاروں کو وہی روکا اور کہا کہ اس لڑکے کی س زا فلحال روک دی جائے میں اس کیس کو دوبارہ سنوں گا اگر یہ لڑکا گنہگار ہوا تو تب سزا دینا دوسرے دن حضرت علی نے عورت اور لڑکے کو عدالت میں طلب فرما دیا حضرت علی نے الزام لگانے والی عورت سے دریافت کیا کہ کیا اس لڑکے نے تیرے ساتھ دست درازی کی ہے اور وہ جرم کیا ہے۔جس پر تو نے اسے سزا کے لیے پیش کیا تھا اس عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا

اور کہا کہ ہاں اس پر حضرت علی نے اپنا رخ لڑکے کی جانب موڑا اور اس سے پوچھا کہ یہ عورت تیری کیا لگتی ہے اس نے کہا یہ عورت میری ماں ہے جس پر عورت نے اس لڑکے کو بیٹا ماننے سے انکار کردیا اس عورت کے انکار پر معاملہ گھمبیر ہوگیا فیصلہ سننے کے لیے لوگوں کا بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو چکا تھاحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تو اچھا ہے اے عورت میں اس لڑکے کا تیرے ساتھ اتنے حق کے مہر کے بدلے نکاح کرتا ہوں تو عورت چیخ اٹھی کے علی کیا کسی بیٹے کا ماں کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے حضرت علی نے جواب فرمایا کہ تیرے اس دعوے کا کیا مطلب ہے۔اس عورت نے جواب دیا ہے اے علی یہ لڑکا تو واقع میں میرا بیٹا ہے اس پر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ کیا کوئی بیٹہ اپنی ماں کے ساتھ دست درازی کر سکتا ہے عورت نے کہا کہ ہرگز نہیں تو حضرت علی نے پوچھا کہ تو نے اپنے بیٹے کے اوپر ایسا گھٹیا الزام کیوں لگایا عورت نے جواب دیا میری شادی ایک چھوٹی عمر میں امیر کبیر شخص ہوئی تھی ۔اس کی بہت زیادہ جائداد تھی یہ بچہ ابھی کمسن دودھ پیتا ہی تھا کہ میرا خاوند مر گیا تو میرے بھائیوں نے مجھے کہا کہ یہ لڑکا تو اپنی باپ کی جائیداد کا وارث ہے اس کو کہیں چھوڑآؤ میں اسے کسی آبادی میں چھوڑ آئی ساری جائیداد میری اور بلآخر میرے بھائیوں کی ہوگی یہ لڑکا بڑا ہوا تو ماں کی محبت نے اس کے دل میں انگڑائی لی یہ ماں کو تلاش کرتا میرے تک پہنچ گیا میرے بھائیوں نے مجھے پھر ورغلایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی زندگی کا سانس ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائےتو میں نے اپنے ہی بیٹے پر جھوٹا الزام اپنے بھائیوں کی باتوں میں آکر لگا دیا اور دولت کی لالچ میں مجھے اندھا کردیا جبکہ حقیقت تو یہی ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور اس معاملے میں بالکل بے گناہ ہے جب اس واقعہ کا علم امیرالمومنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ اگر آج علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا اور دوستوں یو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ایک پیچیدہ مسئلہ کی گرہ کھول دیں اور ایک بے گناہ کو س ز ا ملنے سے بچالی

Sharing is caring!

About the author

Admin

Leave a Comment